May 12, 2022


پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں قومی زبان کے نفاذ کے لیے مطالبات کیے جارہے ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ گوروں کے بعد کالے انگریز ملک پر قابض ہیں ،جو اپنے آباؤ اجداد کی زبان، تہذیب وثقافت کوتحفظ دینے کے لیے عوام کی زبان کو سرکاری فرجہ نہیں دے رہے۔ قائد اعظم نے قیام پاکستان سے قبل ہی اردو کو ملک کی سرکاری وقومی زبان قرار دیا تھا۔ دستور کی شق 251 میں اس کی ضمانت دی گئی ہے اور سپریم کورٹ نے 8ستمبر 2015 کو فوری نفاذ کا حکم بھی دے رکھا ہے۔
قومی زبان کے نفاذ میں اصل رکاوٹ یہ ہے کہ کالے انگریز نہیں چاہتے کہ عام پاکستانی کا بچہ اس کے بچے کے مقابلے میں کھڑا ہوسکے۔ وہ لوگ نہیں چاہتے کہ پاکستان کے وسائل جن پر وہ قابض ہیں، پاکستانی عوام کی ان تک رسائی ہوسکے۔ یہ اشرافیہ اور عوام کے درمیان مفادات کی جنگ ہے۔ وہ خود انگریزی کے ہتھیار سے قابض ہیں اور عوام کو انگریزی سیکھ کر ساتھ شامل کرنے کا خواب دکھا رہے ہیں۔
نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی کے مصداق نہ انگریزی پڑھائی جائے گی اور نہ کوئی انگریزی میں مہارت حاصل کرپائے گا اور نہ عوام کے بچے اشرافیہ کے مقابل کھڑے ہوسکیں گے۔ تین نسلوں کی تباہی کے بعد اب قوم اپنے مقدر کا فیصلہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اب وہ کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے قومی زبان کے نفاذ تک جدوجہد کا عزم کرچکی ہے۔
اشرافیہ نے حکمرانوں، انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کی طاقت سے عوام کو ایوانوں سے باہر رکھا، اب یہ سارے راز طشت از بام ہوچکے ہیں اور عوام اس دھوکے کا مزید شکار ہونے پر تیار نہیں۔ ملک کے طول وعرض میں نفاذ قومی زبان کی صدا بلند ہونا شروع ہوچکی ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں سال ہا سال سے ناکام ہونے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں نے انگریزی کی تلوار کا شکار ہونے سے انکار کردیا ہے۔
ایک مطالبہ جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے، ہر گھر سے اس کی صدا بلند ہونا شروع ہوگی ہے۔ اب یہ جنگ عدالتوں اور پارلیمنٹ کے بجائے سڑکوں، گلیوں اور میدانوں میں ہوگی۔ جن سیاسی جماعتوں سے پچھتر سالوں میں قومی زبان کو نافذ نہیں ہونے دیا، اس کے ہر امیدوار کو تحریری یقین دہانی کروانی ہوگی کہ قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں نفاذ قومی زبان کا اعادہ کیا جائے گا اور وزیراعظم اپنی پہلی تقریر میں قومی زبان نافذ کرنے کا اعلان کرکے پہلا حکم نامہ نفاذ قومی زبان کا جاری کرے گا۔ یہ اشرافیہ کے پاس آخری موقع ہے، اگر دستوری جدوجہد کو خاطر میں نہ لایا گیا تو سری لنکا کی طرح ہر سرکاری عہدیدار کو سمندر کی نذر کردیا جائے گا۔
جب عدالتیں، پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو سارے عوام دشمنی سے باز نہ آئیں تو پھر انقلاب ہی واحد راستہ ہوتا ہے۔ جب قومی قیادت بانچھ ہوجائے تو عوام کے پاس صرف یہی راستہ بچتا ہے کہ وہ ظالموں کی ہر نشانی کو مٹا کر اپنا حق حاصل کریں۔ بائیس کروڑ پاکستانیوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے عوام کو اظہار رائے پر عائد تمام پابندیوں توڑ ڈالا ہے۔ اب ہر پاکستانی اپنی رائے کا اظہار کررہا ہے اور اپنا حق جانتا بھی ہے اور حاصل بھی کرسکتا ہے ۔
عطاء الرحمن چوہان، صدر
تحریک نفاذ اردو پاکستان

Copy link
WhatsApp
Facebook
Nextdoor
Email
X