عالمی رہنما: عبدالستار ایدھی کو نوبل پیس پرائز 2016ء کے لیے نامزد کریں


عالمی رہنما: عبدالستار ایدھی کو نوبل پیس پرائز 2016ء کے لیے نامزد کریں
The Issue
عبدالستار ایدھی پاکستان کے نہایت قابل احترام اور مشہور شخصیات میں سے ایک ہیں جو ہمہ وقت خلقِ خدا کو خیر پہنچانے والے انسان دوست سماجی کارکن ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ بڑی تعداد میں ان کی مفت ایمبولینس سروس پاکستان کی معمول کی زندگی کا ایک ناگزیر حصہ بن چکی ہے۔
وہ 87 سال کے پیٹے میں ہیں اور میری شدید خواہش ہے کہ انسانیت کے لیے ان کی زندگی بھر کی خدمات کا اعتراف انھیں نوبل پیس پرائز دے کر کیا جائے۔
جب میری بیٹی ملالہ نے نوبل پیس پرائز جیتا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ شکر اور طمانیت کے جن تند و تیز جذبات نے میرا اور میری بیوی کا احاطہ کیا ہوا تھا، محض الفاظ سے ان کا اظہار ممکن نہیں۔بلاشبہ اس ایوارڈ نے عالمی سطح پر ہر لڑکی اور ہر بچے کے لیے تعلیم کی اہمیت اور افادیت میں واضح اضافہ کیا ہے۔
میرا ایمان ہے کہ عبدالستار ایدھی صاحب ایسے ہی غیر معمولی احترام کے قابل عالی مرتبت انسان ہیں۔
ایدھی صاحب اپنی ایمبولینس سروس اور ناگہانی خدمات کی فراہمی کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے پوری قوم کی کفالت کرتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں دہشت گردی، غربت اور قدرتی آفات ایک معمول بن چکی ہیں، وہاں پہ ان کا ادارہ ملک کے طول و عرض میں ہر قسم کی طبی امداد اور ناگہانی مدد کے لیے بروقت پہنچ جاتا ہے۔ وہ یتیم بچوں اور نادار لوگوں کو پناہ دیتے ہیں۔ انھیں مفت طبی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ نشہ سے بحالی کی خدمات، حادثات میں فوری مدد اور لاوارث مُردوں کے کفن و دفن کا انتظام ان کے ادارے کا بنیادی وصف ہے۔ کسی مصیبت کے وقت جب قانون نافذکرنے والے ادارے بھی نہیں پہنچ پاتے، ایدھی کی ایمبولینس وہاں پہ موجود ہوتی ہے۔ ایدھی صاحب کئی عشروں سے کسی لالچ کے بغیر اہل وطن کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔
ایدھی صاحب کی قابل قدر خدمات کے لیے انھیں جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ انھیں فلاحی کاموں میں ان کی شریک حیات بلقیس ایدھی کا تعاون بھی حاصل ہے۔ ان کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان میں ایمرجنسی اور ٹراما کئیر کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے جس سے صنفی، طبقاتی، نسلی، مذہبی اور عمر کے امتیاز کے بغیر سارے لوگ یکساں طور پر مستفید ہوسکتے ہیں۔
ایک معلم اور انسانیت پر پختہ یقین رکھنے والے سماجی کارکن کی حیثیت سے میں نے انسان دوستی کی اصل روح کا مطالعہ ضرور کیا ہے لیکن اس کو عملاً حقیقی انسان دوستی کی شکل میں ایدھی صاحب کی جدوجہد اور ان کی فاؤنڈیشن میں رواں دواں دیکھا ہے۔
میں محسوس کر رہا ہوں کہ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ ایدھی صاحب کی صحت مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے جو گزشتہ بارہ مہینوں میں تیزی کے ساتھ گرنا شروع ہوچکی ہے۔ اس اَمر کو مدنظر رکھتے ہوئے میری خواہش ہے کہ ایدھی صاحب کی پاکستان کے لوگوں کے لیے کی گئیں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں فوری طور پر نوبل پیس پرائز برائے 2016ء کے لیے حتمی طور پر منتخب کیا جائے۔
عبدالستار ایدھی نہ صرف میرے مادرِ وطن میں مینارۂ نور ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ان قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں جو اپنے کردار و عمل کے ذریعے دوسروں کے لیے راہِ عمل متعین کرتے ہیں۔ براہِ کرم ایدھی صاحب کی حمایت میں یہ پٹیشن سائن کریں۔ اور میرے ساتھ آواز بلند کریں، ان شخصیت کے لیے جنھوں نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں بہتری پیدا کی اور ہمارے لیے عملی مثال قائم کی کہ ہمیں اپنی زندگیاں کس طرح گزارنی چاہئیں۔
Malala:
میرے والد صاحب کی طرف سے شروع کی جانے والی یہ پٹیشن مَیں، ملالہ یوسف زئ سائن کر رہی ہوں جس میں عالمی رہنماؤں سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ عبدالستار ایدھی کو نوبل پیس پرائز برائے 2016ء کے لیے نامزد کریں۔ جناب عبدالستار ایدھی کی انسانیت کے لیے کی جانے والی مسلسل اورا نتھک جدوجہد ہمیشہ ہی میرے لیے متاثر کن رہی ہے۔ ایدھی صاحب نے پاکستان میں معاشرے کے ان کچلے ہوئے نہایت غریب اور پس ماندہ لوگوں کی خدمت کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے جن کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ ایدھی صاحب کا عظیم کردار ہم سب کے لیے قابل تقلید ہے۔ میں آپ سب کو دعوت دوں گی کہ آپ بھی میرے ساتھ شامل ہوکر ایدھی اور ان کی فاؤنڈیشن کو خراج تحسین پیش کریں۔

The Issue
عبدالستار ایدھی پاکستان کے نہایت قابل احترام اور مشہور شخصیات میں سے ایک ہیں جو ہمہ وقت خلقِ خدا کو خیر پہنچانے والے انسان دوست سماجی کارکن ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ بڑی تعداد میں ان کی مفت ایمبولینس سروس پاکستان کی معمول کی زندگی کا ایک ناگزیر حصہ بن چکی ہے۔
وہ 87 سال کے پیٹے میں ہیں اور میری شدید خواہش ہے کہ انسانیت کے لیے ان کی زندگی بھر کی خدمات کا اعتراف انھیں نوبل پیس پرائز دے کر کیا جائے۔
جب میری بیٹی ملالہ نے نوبل پیس پرائز جیتا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ شکر اور طمانیت کے جن تند و تیز جذبات نے میرا اور میری بیوی کا احاطہ کیا ہوا تھا، محض الفاظ سے ان کا اظہار ممکن نہیں۔بلاشبہ اس ایوارڈ نے عالمی سطح پر ہر لڑکی اور ہر بچے کے لیے تعلیم کی اہمیت اور افادیت میں واضح اضافہ کیا ہے۔
میرا ایمان ہے کہ عبدالستار ایدھی صاحب ایسے ہی غیر معمولی احترام کے قابل عالی مرتبت انسان ہیں۔
ایدھی صاحب اپنی ایمبولینس سروس اور ناگہانی خدمات کی فراہمی کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے پوری قوم کی کفالت کرتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں دہشت گردی، غربت اور قدرتی آفات ایک معمول بن چکی ہیں، وہاں پہ ان کا ادارہ ملک کے طول و عرض میں ہر قسم کی طبی امداد اور ناگہانی مدد کے لیے بروقت پہنچ جاتا ہے۔ وہ یتیم بچوں اور نادار لوگوں کو پناہ دیتے ہیں۔ انھیں مفت طبی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ نشہ سے بحالی کی خدمات، حادثات میں فوری مدد اور لاوارث مُردوں کے کفن و دفن کا انتظام ان کے ادارے کا بنیادی وصف ہے۔ کسی مصیبت کے وقت جب قانون نافذکرنے والے ادارے بھی نہیں پہنچ پاتے، ایدھی کی ایمبولینس وہاں پہ موجود ہوتی ہے۔ ایدھی صاحب کئی عشروں سے کسی لالچ کے بغیر اہل وطن کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔
ایدھی صاحب کی قابل قدر خدمات کے لیے انھیں جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ انھیں فلاحی کاموں میں ان کی شریک حیات بلقیس ایدھی کا تعاون بھی حاصل ہے۔ ان کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان میں ایمرجنسی اور ٹراما کئیر کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے جس سے صنفی، طبقاتی، نسلی، مذہبی اور عمر کے امتیاز کے بغیر سارے لوگ یکساں طور پر مستفید ہوسکتے ہیں۔
ایک معلم اور انسانیت پر پختہ یقین رکھنے والے سماجی کارکن کی حیثیت سے میں نے انسان دوستی کی اصل روح کا مطالعہ ضرور کیا ہے لیکن اس کو عملاً حقیقی انسان دوستی کی شکل میں ایدھی صاحب کی جدوجہد اور ان کی فاؤنڈیشن میں رواں دواں دیکھا ہے۔
میں محسوس کر رہا ہوں کہ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ ایدھی صاحب کی صحت مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے جو گزشتہ بارہ مہینوں میں تیزی کے ساتھ گرنا شروع ہوچکی ہے۔ اس اَمر کو مدنظر رکھتے ہوئے میری خواہش ہے کہ ایدھی صاحب کی پاکستان کے لوگوں کے لیے کی گئیں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں فوری طور پر نوبل پیس پرائز برائے 2016ء کے لیے حتمی طور پر منتخب کیا جائے۔
عبدالستار ایدھی نہ صرف میرے مادرِ وطن میں مینارۂ نور ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ان قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں جو اپنے کردار و عمل کے ذریعے دوسروں کے لیے راہِ عمل متعین کرتے ہیں۔ براہِ کرم ایدھی صاحب کی حمایت میں یہ پٹیشن سائن کریں۔ اور میرے ساتھ آواز بلند کریں، ان شخصیت کے لیے جنھوں نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں بہتری پیدا کی اور ہمارے لیے عملی مثال قائم کی کہ ہمیں اپنی زندگیاں کس طرح گزارنی چاہئیں۔
Malala:
میرے والد صاحب کی طرف سے شروع کی جانے والی یہ پٹیشن مَیں، ملالہ یوسف زئ سائن کر رہی ہوں جس میں عالمی رہنماؤں سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ عبدالستار ایدھی کو نوبل پیس پرائز برائے 2016ء کے لیے نامزد کریں۔ جناب عبدالستار ایدھی کی انسانیت کے لیے کی جانے والی مسلسل اورا نتھک جدوجہد ہمیشہ ہی میرے لیے متاثر کن رہی ہے۔ ایدھی صاحب نے پاکستان میں معاشرے کے ان کچلے ہوئے نہایت غریب اور پس ماندہ لوگوں کی خدمت کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے جن کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ ایدھی صاحب کا عظیم کردار ہم سب کے لیے قابل تقلید ہے۔ میں آپ سب کو دعوت دوں گی کہ آپ بھی میرے ساتھ شامل ہوکر ایدھی اور ان کی فاؤنڈیشن کو خراج تحسین پیش کریں۔

Petition Closed
Share this petition
The Decision Makers
Petition Updates
Share this petition
Petition created on 7 December 2015