Petition Closed

Revive safe Basant بسنت بحال کریں

This petition had 81 supporters


As a citizen of Lahore, I value Basant because it is an important part of the city's identity which brings together family, friends & fellow citizens, generating festivity, employment & tourism. Thus, I urge the Chief Minister to implement plans for Safe Basant provided by the Basant Committee, and commit to abiding by this plan myself.

میں ایک لاھوری، بسنت کو شہر کی شناخت سمجھتا ہوں جو خاندان، دوستوں اور عوام کو آپس میں جوڑتی ہے اور خوشی، روزگار و سیاحت کو فروغ دیتی ہے۔ اس لیے میری وزیر اعلی سے درخواست ہے کہ بسنت کے محفوظ انعقاد کیلئے بسنت کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے جس میں میں اپنے تعاون کا یقین دلاتا/دلاتی ھوں۔

Importance of Basant: Basant is important from both an aspect of identity and employment. Because Basant is an indigenous local festival, it is celebrated across the religious and sectarian divide. Thus a revival of Basant will support the objectives of the National Action Plan, and help in bringing together communities. It will also break the hold of the enclosed barb wire culture that has taken hold of Lahore because of the security situation.

Further, Basant used to provide employment opportunities to hundreds of thousands. From the expert kite & string maker, to the home based women workers who made kites, to glue maker, to sellers, to caterers and hotels, Basant pumped billions into Lahore’s economy, and brought together families. 

Requirements for Safe Basant: Expert kite and string makers agree that Basant can be celebrated without loss of life if the following factors are adhered to: One, thin string is used without the use of chemicals. In this regard, experts string makers state that only Pinna can be used rather than Charkhi to ensure thin & chemical less string. Two, the size of the kite is limited to ensure that the need for thicker string does not arise. Three, to take extra precaution, motorcycles should be kept off the road during basant festivity (1-2 restrictions on motorcycles in Lahore), or a safety mechanism for motorcycles can be sold at the kite shops along with kites and string.

According to the Government’s Committee on Safe Basant, all the above have been discussed and agreed for Safe Basant to take place in Lahore. Kite Flying Association, the Police and representative of the bureaucracy are on board, and have send their recommendations to the Chief Minister. But the Chief Minister is still not willing to life the ban.

Should we then consider the ongoing 9 year ban on Basant as an indication of incompetence and a lack of political will? 

بسنت کی اہمیت: بسنت شناخت اور روزگار دونوں حوالوں سے اھمیت کی حامل اور ایک مقامی تہوار ھے جو کہ بلا تفریق مذھب و گروہ بندی منایا جاتا ھے لہذا بسنت منانا نہ صرف نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد کو حاصل کرنے میں معاون و مددگار ھوھے بلکہ مختلف سماجی اور مزھبی کمیونیٹیز کو بھی قریب لانے اور اختلافات کو ختم اور کم کرنے کے سبب دھشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں بھی سود مند ھو سکتا ھے۔ صدیوں پرانے اس تہوار کی بحالی اس لیئے بھی بہت اھم ھے کہ اس نے لاھور کو بین الاقوامی شناخت دی ھے،لہذا حکومت کیلئے بسنت کی بحالی اہک چیلنج ھے جو کہ نہ صرف صدیوں پرانا تہورار ھے اور اھل لاھور کو اس تہوار پر فخر ھے اور اس تہوار کی بحالی سے ان پر طاری خوف کی فضا سے انہیں کسی حد تک نجات حاصل ھو جائے گی۔
مزید یہ کہ بسنت سے ھزاروں لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ھے،جن میں پتنگ اور ڈور بنانے والے کاریگر،مزدور اور گھروں میں پتنگ ڈور بنانے والی خواتین،گلو بنانے والے،پتنگ اور ڈور بیچنے والے،فوڈ انڈسٹری وغیرہ سے وابستہ افراد قابل زکر ھیں۔ بسنت صرف ایک فیسٹیول نہیں بلکہ لاھور شہر کیلئے اربوں روپے کی اکانومی کا باعث اور دوستوں اور فیملیز کو باھم ملنے اور قریب لانے کا تہوار ھے ۔

ضروریات برائے سیف بسنت: بسنت کی بحالی کے سلسلے میں جب لاھور کے شہریوں اور خصوصا اندرون لاھور کے باسیوں،بسنت کے دلدادہ افراد،سرکاری اہلکاروں بشمول پولیس اہلکاروں سے بات چیت اور ریسرچ کی گئی تو انکا کہنا تھا کہ بسنت کا انعقاد ناممکن کام نہیں اگر حکومت وقت چاھے اور مخلص اور سنجیدہ ھو تو وہ ایک جامع پلان ترتیب دیکر اور اسکے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کروا کے بسنت کروا سکتی ھے،جبکہ پتنگ اور ڈور بنانے والوں کا یہ بھی ماننا ھے کہ مندرجہ زیل احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ھو کر محفوظ اور بغیر انسانی جان کے ضیأ کے بسنت کا انعقاد ممکن ھے

۔ صرف باریک اور کیمیکل سے پاک ڈور کے استعمال کی اجازت ھو: چرخی کی بجائے صرف پنے کا استعمال ہو۔
۔ پتنگ کا سائز چھوٹا ہو-

۔ مزید احتیاطی تدابیر کے طور پر بسنت کے دنوں میں موٹرسائیکل پر1-2 دن مکمل پابندی ھو یا موٹرسائیکل حفاظتی اینٹینا کا استعمال کریں  جو ڈور اور پتنگ کی دکان پر فروخت کیا جائے ۔

حکومت کی قائم کردہ بسنت کمیٹی، جس میں کائیٹ فلائنگ اسوسیئشن، پولیس اور بیوروکریسی شامل ہے،سیف بسنت کے انعقاد کے حق میں ہیں، اور یہ تمام سفارشات وزیر اعلی کو دے چکی ہے لیکن وزیر اعلی پھر بھی بسنت بحال کرنے کےلیے تیار نہیں ۔

کیا پھر ہم بسنت پر 9 سالہ پابندی کو حکومتی نا اہلی اور سیاسی ازم کا فقدان سمجھیں؟



Today: ReclaimSadhaLahore is counting on you

ReclaimSadhaLahore needs your help with “CM Punjab: BASANT Bahaal Karain”. Join ReclaimSadhaLahore and 80 supporters today.