Raising Ethnic Minorities Concerns to Hong Kong Chief Executive, Ms Carrie Lam

0 have signed. Let’s get to 100!


معزز مسز کیری لام،

 نسلی ہم آہنگی کے فروغ میں تعاون کی درخواست۔ نسلی اقلیتوں کے کم آمدن طبقہ سے ملاقات کا

 دعوت نامہ

 ہمارے شہر کی خوشحالی برقرار رکھنے کے لئے ، تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی اور حفاظت بہت ضروری ہے اور اس سلسلے میں قومیتوں ، نسلوں ، عقیدوں اور سماجی حیثیتوں کی تفریق نہیں کی جانی چاہئے۔ ایک کم آمدن نسلی اقلیتوں کا گروہ ہونے کی حیثیت سے، ہم ہانگ کانگ کو اپنا گھر سمجھتے ہیں اور ایک مستحکم زندگی اور اپنے بچوں کے لیئے پُر اُمید مستقبل چاہتے ہیں۔ تاہم ہم اس کثیر ثقافتی شہر کا ایک تاریک پہلو آپ کو دکھانا چاہتے ہیں۔ اس سوسائٹی میں ہم میں سے بہت سے کم حیثیت کے طور پر یہاں سے باہر دھکیل دئیے گئے ہیں اور ہماری ساری اُمیدوں پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔ اگرچہ حکومت اپنے طور پر غربت ختم کرنے کے لئے مختلف سکیمیں متعارف کروا رہی ہے مگر ان تک رسائی ہمارے بہت سے لوگوں کے لئے ممکن نہیں۔

آپ بھی یقینی طور پر اس پریشان کن اعدادو شمار سے واقف ہوں گی۔ 2006 میں امیر اور غریب لوگوں کے درمیان فرق کے حوالے سے اعدادو شمار 533۔0 ہیں جو کہ دنیا میں آگے ہی بلند ترین سطح پر ہے۔ لیکن بد قسمتی سے بجائے گھٹنے کہ 2011 میں یہ 54۔0 تک جا پہنچا ہے اور اس سے امیر اور غریبوں میں دولت کا فرق اور بڑھ گیا ہے۔ اور چونکا دینے والے حقائق ہیں کہ نسلی اقلیتی بچوں والے خاندانوں میں بے روزگاری کا تناسب 6۔16 فی صد ہے(مجموعی طور پر 1۔11 فی صد)۔ ہماری غربت کی شرح بڑھتی ہوئی 8۔20 فی صد پر جا پہنچی ہے اگرچہ کہ پالیسی میں بہتری لائی گئی ہے(مجموعی طور پر 2۔16 فی صد)۔ ہم میں سے زیادہ تر ہانگ کانگ میں 50 سال سے زائد عرصے سے ہانگ کانگ میں رہ رہے ہیں۔ ہم نے  نو آبادیاتی دور میں پولیس، تاجر، فوجی اور دیگر حیثیتوں سے کام کیا۔ کچھ نے ہاتھ سے کام یعنی جنرل لیبر کے طور پر زیادہ لمبے گھنٹوں تک کام کیا مگر تب زندگی آسان تھی کیونکہ  گھروں کے کرایے اور دیگر اشیاء کی قیمتیں ایک مناسب سطح پر تھیں۔

تاہم حاکمیت کے بدلنے سے نسلی امتیاز کی صورت حال بہت حد تک بگڑ گئی۔ ہانگ کانگ کے رہائشیوں کا لفظ صرف اور صرف نسلی چینیوں کے لیئے استعمال کیا جانے لگا اور دیگر نسلی اقلیتوں کو باہر کا گردانا جانے لگا۔ زبان اور تعلیم کی غیر منصفانہ پالیسیوں نے ہمارے بچوں کے لئے بہتر تعلیم اور ملازمت کے مواقعوں کی تمام راہیں مسدود کر دیں۔ سول سروس بیورو کی طرف سے متعین کردہ چائنیز زبان کی قابلیت نے عوام کی خدمت کرنے کے جذبے کو بھی ہمارے اندر زبردستی ختم کر دیا۔ اس طرح کے معاشی کوائف نے نسلی تعصب اور تفریق کو زیادہ بگاڑا اور مزید ہوا دی ہے۔ پگڑی، حجاب اور داڑھیاں مالکین کی نظر میں بغیر کسی وجہ کہ گندگی، صفائی ستھرائی کے مخالف اور غیر پیشہ وارانہ قرار پائی گئیں اور یہ سب کرنے یا رکھنے والے لوگ "تین ڈی"یا کم درجہ ملازمتوں کے لیئے ہی مناسب قرار پائے گئے ۔ ایسی ملازمیتیں جو گندی، خطرناک اور کم تنخواہ  والی تھیں۔

   ہم اپنی مدد آپ کے تحت صرف اپنی زندگیوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے یا جینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم لمبے گھنٹے اور نا پسندیدہ جگہوں پر کام کرنے کو مجبوری میں برا نہیں سمجھتے۔ اس کے باوجود ایسی ملازمت ڈھوننا بھی مشکل جنگ ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ میں موجود ملازمتیں زیادہ تر چائنیز زبان میں ہوتی ہیں۔ وہاں موجود زیادہ تر سٹاف کم درجہ اور کم تنخواہ والی ملازمتیں  ہم جیسے نسلی اقلیتوں کو متعارف کرواتے ہیں یہ جانے بغیرکہ ہم کتنے تعلیم یافتہ ، قابل اور مہارت  رکھتے ہیں۔ ہمیں خود ہی مالکین سے رابطے کو کہا جاتا ہے بجائے اس کے کہ ہماری رہنمائی کی جائے اور اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیئے پروگراموں میں شرکت کی دعوت دی جائے۔

 گورنمنٹ کی کسی مدد کے بغیرنسلی اقلیتوں کو ملازمتیں ڈھونڈتے وقت لاتعداد طور پر  مالکین کی طرف سے رد کیا جاتا ہے اور متعدد نہ سمجھ آنے والی اور مزاحیہ وجوہات کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہیں:

 

" ہمارا ریسٹورنٹ ہے اس لیئے ہمیں یہاں صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے"( یہ جاننے کے بعد کہ درخواست گزار ایک پاکستانی ہے) " حفاظت کے سائن بورڈ ہماری بحالی کے ڈپو میں صرف چائنیز زبان میں ہیں اس لیئے درخواست گزاروں کو چائنیز لکھنا اور پڑھنا آنا ضروری ہے"یہ بات ایک ہیومن ریسورس سٹاف نے کہی جو کہ ایک بہت بڑی کارپوریشن کا ملازم تھا جہاں سمارٹ فون کے ایپ اور تمام سائن بورڈ دونوں زبانوں میں موجود تھے۔

 پچھلے کئی سالوں سے مختلف پلیٹ فارموں سے ہم نے بار بار اپنے مطالبے اور مقاصد کے لیئے آواز بلند کی تاکہ گورنمنٹ کے ساتھ مل کر مختلف مسائل کے حل کے لیئے کام کیا جا سکے۔۔ لیکن تاہم ہماری مایوسی میں شدید اضافہ ہوتا ہے جب مختف ڈیپارٹمنٹ کے سٹاف نسلی حساسیت کو نظر انداز کرتے ہیں اور افسران نامناسب رویے کا اظہار کرتے ہیں۔ اس ظرح کا طرز عمل اور حقیقت جس کا ہمیں سامنا ہے وہ سرکاری پروپیگنڈا کے بالکل بر عکس ہے۔

  ہماری سب سے بڑی خواہش اور ضرورت ایک مناسب نوکری ہے جس سے ہم اپنے خاندانوں کو بہتر زندگی دے سکیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنا ٹیلنٹ، تجربہ اور مہارتیں بہتر طریقے پر بروئے کار لا کر ہانگ کانگ کے مفید شہری بن سکیں۔ ہماری میٹنگ میں آپ کی شمولیت ہمارے لیئے باعث اعزاز ہو گی۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم آپ سے ڈ سکس کر سکیں کہ کس طرح بہتر مواقع کی فراہمی سے ہم اس شہر کی تعمیر وترقی میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ یہ وہ شہر ہے جس سے ہم بہت پیار کرتے ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ آپ پچھلی سی ای الیکشن کے فورم کو کہ 3 مارچ 2017 کو منعقد ہوا تھا کہ دوران کیے گئے وعدے کو پورا کریں گے کہ نسلی اقلیتوں کو بہتر موقع فراہم کرنے کے لیئے لیبر ڈیپارٹمنٹ میں منتخب کردہ نسلی اقلیتوں کا ڈویژن بنایا جائے گا۔

            مزید معلومات  اور پیروی کے لیئے کاشو لی سے اس فون یا ای میل پر رابطہ کریں۔

 kashu@hkccla.org.hk    ا516333 23523763/23 

آپ کے تابعدار

اے۔ آئی ۔ ایم گروپ ( نسلی اقلیتوں کی ملازمتوں کے لیئے فکر مند گروہ)

گورنمنٹ کی سروسز تک مساوی رسائی کے حوالے سے نسلی اقلیتوں کا فکر مند گروہ

کیتھولک ڈائیوسیس آف ہانگ کانگ ڈائیوسیسن پیسٹرول سینٹر فار ورکرز (کولون)

 



Today: Diocesan Pastoral Center for Workers-Kowloon is counting on you

Diocesan Pastoral Center for Workers-Kowloon needs your help with “Chief Executive of Hong Kong : Raising Ethnic Minorities Concerns to Hong Kong Chief Executive, Ms Carrie Lam”. Join Diocesan Pastoral Center for Workers-Kowloon and 11 supporters today.